ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایس آئی او اور اے پی سی آر کےذمہ داران کی بھٹکل بلاک ایجوکیشن آفسر سے ملاقات؛ آرٹی ای کے تعلق سے حاصل کی جانکاری

ایس آئی او اور اے پی سی آر کےذمہ داران کی بھٹکل بلاک ایجوکیشن آفسر سے ملاقات؛ آرٹی ای کے تعلق سے حاصل کی جانکاری

Mon, 07 Sep 2020 22:29:59    S.O. News Service

بھٹکل 7 ستمبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز)  رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ (آر ٹی ای) کے تحت اسکولوں میں داخلوں کے تعلق سے جانکاری حاصل کرنے اور  کوویڈ کے چلتے طلبہ کو پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے  اسٹوڈینٹ اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) بھٹکل یونٹ اور اسوسی ایشن فور پروٹیکشن  آف سیول رائٹس (اے پی سی آر) کے ذمہ داران پر مشتمل ایک وفد  بھٹکل  بلاک ایجوکیشن(بی ای او) دیوی داس موگیر  سے ملاقات کی۔

وفد کو معلومات فراہم کراتے ہوئے  تعلیمی آفسر دیوی داس  موگیر نے بتایا کہ اصول و ضوابط کے ساتھ آن لائن درخواست کی آخری تاریخ 24/ جون تا 8 جولائی 2020 تھی۔ مگراس مرتبہ بہت کم طلباء نے داخلہ لیا ہے۔  جن طلباء کو آن لائن درخواست دینے کے بعد جس اسکول میں سیٹ مل چکی ہو وہ فوری طور پریکم ستمبر  تا 10/ ستمبر 2020 متعلقہ اسکول میں ایڈمیشن کروائیں۔ سرکار کی جانب سے آن لائن جاری کردہ سرکلر کے مطابق اسکولوں کو ہدایات دی جاچکی ہیں کہ یکم   تا 10/ ستمبر 2020 تک طلباء کے سرپرستوں سے حاصل کردہ تمام تفصیلات ایجوکیشن افسر کو پہنچائیں۔

وفد کی جانب سے RTE کے تحت شہر کے مختلف  پرائیوٹ اسکولوں  میں گذشتہ کچھ سالوں سے زیر تعلیم طلباء کو فری ایڈمیشن وغیرہ کی سہولیات جاری ہیں یا نہیں،  اس تعلق سے پوچھے جانے پر  آفسر  نے اُن تمام اسکولوں کی لسٹ کی نقل وفد کے حوالے کی اور  کہا کہ RTE کے تحت زیر تعلیم طلباء کو گذشتہ سالوں کی  طرح امسال بھی تمام تر سہولیات مہیا رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ملنے والی سہولیات کے برخلاف اگر کسی کی شکایت موصول ہوتی ہے تو اُن  اس اسکولوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ وفد میں آیس آئی او کی طرف سے یوسف اور انعام  سمیت دیگر ذمہ داران موجود تھے، جبکہ اے پی سی آر کی جانب سے ضلعی سکریٹری قمر الدین مشائخ موجود تھے۔

ایس آئی او   بھٹکل یونٹ نے RTE کے تعلق سے مزید  جانکاری یا   رہنمائی کے لئے محمد یوسف سے  موبائل نمبر  9535060097 پر  رابطہ کرکے مزید معلومات حاصل کرنے کی  درخواست کی ہے۔


Share: